زید بن حارثہ نے خچر کرائے پر لیا۔ سبق آموز اسلامی کہانی

طائف سے واپسی تھی.
زید بن حارثہ نے خچر کرائے پر لیا. مالک ساتھ تھا. راستے میں ایک ویران جگہ پر خچر روک لیا. زید نے دیکھا تو انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں. مالک کے تیور دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہاں لاکر وہ لوگوں کو قتل کرتا ہے اور مال لوٹ لیتا ہے.
آج مصطفی کریم کے منہ بولے بیٹے کی باری تھی.
زید نے کہا، مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو،
تم سے پہلے قتل ہونے والوں نے بھی نمازیں پڑھیں تھیں لیکن کسی کی نماز اسے نہ بچا سکی.
تم بھی پڑھ لو.
زید نے نماز پڑھی، پھر جب خچر کا مالک نیزہ لئیے ان کی طرف بڑھا تو
انہوں نے پکارا، یا ارحم الراحمين
غیب سے آواز آئی
لا تقتلہ، مت قتل کرو
ٹھٹھک گیا، ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نہیں تھا
دوبارہ حملہ آور ہوا تو زید نے پھر یا ارحم الراحمين پکارا
پھر آواز آئی، لا تقتلہ، مت قتل کرو
تیسری مرتبہ تیار ہوا تو پھر زید نے ارحم الراحمين کو پکارا
کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سوار نیزہ تانے آ رہا ہے جس کے کنارے پر آگ کا شعلہ ہے
اس نے آتے ہی خچر کے مالک پر وار کیا اور وہ وہیں بھسم ہو گیا.
زید نے پوچھا، تم کون؟؟
میں ساتویں آسمان پر تھا جب تمہاری پکار نے عالم بالا کو ہلا کر رکھ دیا.
جب تم نے دوبارہ پکارا تو میں آسمان دنیا پر پہنچ چکا تھا
اور جب تم نے تیسری بار ندا دی تو میں تمہارے سامنے آ چکا تھا.
علامہ سھیلی کے بقول یہ واقعہ رسول اکرم کی حیات طیبہ کے زمانے کا ہے مستدرک حاکم میں ایک روایت ہے کہ
ایک فرشتہ
یا ارحم الراحمين کا جواب دینے کے لیے مقرر ہے جب بھی کوئی اس اسم اعظم سے اللہ کو تین بار پکارتا ہے تو وہ کہتا ہے
ارحم الراحمين تمہاری بات سننے کے لئے متوجہ ہے،
جو کہنا چاہتے ہو کہو
یا ارحم الراحمين
یا ارحم الراحمين
یا ارحم الراحمين
Reactions

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Ad Code

Responsive Advertisement